top of page

Standalone Couplets

  • MS Maasoom
  • Sep 4, 2017
  • 2 min read

چند اشعار

غلدستا ے منتخب شدا اشعار

مجھ پور ے حزن کا تمکو چاہنا حدث ے حرص ہوگا

تمہاری حضرت ے حصولی تمہاری حسرت ے عذاب ہوگی

ظاہر اس قدر کر ظالم کی ترض ے بیان ہی پے نہ مریں

فہمیدن سے نویسوگے باہر تو تیری تاریخ کیسے لکھیں

ظاہر اس ترانہ کر ظالم کی انداز ے گیریے ہی پے نہ مرین

کبھی طرز ے ترقی تو کبھی ظرف ے ظفر بھی آسان کر

محرم کو محفل مے مٹ آنے کی منّت تو بح وت کی

پر نہ محفل سجی نہ محرم آیا نہ محکشی ہی نہ ہی مرہم مل پایا

چھوڑ دو انہے تنہا دل یہی پکارے

کاٹ لونگا یہ لمبا سفر اپنے ہی سحارے

صحراوں میں عکس عکس نقاب تمہارا

قطروں میں تراشا وادا ےنور طلسم

رہ روح ہوگا کاروان گزرتا رکا

بیمار ے عشق ے صاحبان مرزا ہم زمان ہوا

شبنم کو کیا سمجھینںگے جو پھول توڑتے ہیں

چشمے نم کو کیا دیکھینگے جو دل توڑھتے ہیں

تھے رقیب جو بنے نامہبر خط لانے کا فریب کئیے

قبلے معشوق احساس پڑہ سنگ دل نے بہت ظلم کئے

جن سوالوں کا جواب دل جانتا ہے

انھی کو پوچھتے ہو جناب دلجلانےکو

سفر سے نکلے یارب کیوں فراقے انجمن بزمے آرا

جب ہو ہی دل وہ محفل میں تو پھر یہ جانے پا کیوں ہو

سب کا کے کی کا کھیل ہے اضافت

کسی کو کسی کا کہنا ہے اضافت

آپ گر سمجھنا چاہیں تفصیلے اضافت

بازئی ارتباط آزمانا ہےنشانے اضافت

سرد ہوا جاتا ہے میرا خون جو کل شہوت انگیز تھا

غربت کے خوف سے تغافل پردیس کو نکلے فردوس سمجھ کر

صبح ہوئ تو دل سمبھالنے مے لگے

جو رات کوفار سمجھ ھمی کو ترساتی رحی

وحشی جب سورما آرائش کر آوے ٹوہ نظر ادھر جاوے

لیکن جب اپنے نوچیلے پنکھ پہڑ پہڑاوے تبہائی عقل آوے

غمے دل کو ہمسایے کی ضرورت نہیں

شکست کھاے کو مؤذن سے نجاد نہیں

ازاں بھی نہیں اٹھا سکتا بجھے دلوں کے آسمان

تاریک ساون کا وزن کیا خدا بھی نہیں اٹھا سکتا

وہ خیال اور وہ تجللی کیا

زندگی مقامل ہونے کو ہے

ہم فلسفے عشق پڑھتے رہے وہ عاشق بدلتے رہے

ہم کتابیں پرکھتے رہے وہ سرابے وفا دکھاتے رہے

رگوں میں جان و روانگی مگر پھر بھی

وہی راہے تمنّا کو جاتا ہے دل بار بار

کبھی داستان ے فیراق تو کبھی قصّہ جدائی سنانے آتے ہیں

کبھی لوح و قلم تھماے تو کبھی اشک بھرے کاغذ دے جائے کوئی

Copyright ©2017 BY THE IDEAS MAN. ALL RIGHTS RESERVED. 

bottom of page