Imagining Future Life of the Poet, by the Poet
- MS Maasoom
- Sep 6, 2017
- 1 min read
نظم حیات ے آیندہ کا تصور
شفق اس بات کا نما ہے کے تھا اک دن وہ بھی
سارا فلک تیرے چشم ے نور سے مکمل روشن تھا
شبخون بھی بہ گیا رسالہ ے تصنیف بھی نہ رہا
جہاں ے اردو اب بس خطاب سا رہ گیا اک خواب سا رہ گیا
ذلت ملنے کا سبب حیا کے در پی مط جائے ہے
دہلیز ہی جب ہو باطل تو پھر یہ چادر اوڑھنا کیسا
دیکھ کر گھر اپنا یاد آیا سما وہ
بیٹھے ہوں جیسے گل کی پنکھڑی پی زنبور اصل
تھے وہ ابنے مومن اور ہم اولاد بت پرست
دیکھ کر گلے لالہ کے رخ فرق بتلاے کوئی
سیرتے خامہ سے یہ نالہے افسوردگی کیسا
یاں بھی وہی تیرے الزام کھایا بلبل فغاں کوئی
گر فراق نا ہوتا حساسےوصال ہوتا کیا
گر مرگ یکبار ہوتا حساسے حیات ہوتا کیا
مرضےمحبت انسان کو دستے خدا کا سببے خندیدن بنا دیتا ہے
ساگر چشمے سیاہ مے دبّا لیتا ہے تو کبھی اشکوں کا غبار بہا لیتا ہے
ہمنے مانا اتنی بھی محبت نہ تھی ہمسے کے جواب دیتے
ہمنے جو بھی بھیجا انھنے قاصدکو چپکے سے کہا لاجواب
نہ بھی آے منزل نظب ر تو کیا غم ہے
چراغ دست دل درخشاں پھر راہ کھونا کیسا
شفا کیسی کہاں کا مرض جب گھر چھوڑنا چاہا
جب منزل ہی ہو دھملی تو پھر یہ راستا کیوں ہو
وہ تھے بت پرست ہم تھے اہلے کتاب
نہ ملا خدا سنگ و خشت میں نہ پڑھا تھا وہ کتاب میں
